منگلورو 17؍اکتوبر(ایس او نیوز) موٹروہیکل ایکٹ کے مطابق ہر گاڑی کے لئے آگے اور پیچھے کی طرف والے نمبرپلیٹس ،اس پرلکھے جانے والے حروف کا سائز اور رنگ مقرر ہے۔لیکن آج کل خاص کر شوقین نوجوان اپنی موٹر سائیکلوں پر فینسی نمبر پلیٹس لگایا کرتے ہیں اور من مانے طریقے اور سائز کا فونٹ استعمال کرتے ہیں۔
منگلورو پولیس نے اس رجحان کے خلاف کارروائی کی مہم شروع کی ہے۔ اور رواں سال کے دوران قانونی طور پر غیر معیاری نمبر پلیٹس کی موٹرگاڑیاں چلانے والے 4,690 افراد کے خلاف معاملات درج کرتے ہوئے جنوری سے ستمبر تک 4.69روپے کی رقم بطور جرمانہ وصول کی ہے۔
گاڑیوں کے نمبر پلیٹ کا سب سے بنیا دی قانون یہ ہے کہ اس پر سوائے رجسٹریشن نمبر کے دوسرا کوئی بھی لفظ ، نشان یا تصویر نہیں ہونی چاہیے۔رجسٹریشن نمبر کا فونٹ ،ہر حرف اور نمبر کے عدد کا درمیانی فاصلہ اور فارمیٹ بھی قانون کے مطابق مقرر ہے۔پچھلی پلیٹ پر دو سطریں ہونی چاہئیں اور اگلی پلیٹ پر ایک ہی سطر ہونی چاہیے۔سرکاری گاڑیوں کے علاہ کسی بھی دوسری انجمن، ادارے یا ایسو سی ایشن کا نام نمبر پلیٹ پر لکھنا قانونی طور پر جرم ہے۔کنڑا زبان میں نمبر پلیٹ کی اجازت تو ہے مگر قانونی طور پر اس کے ساتھ انگریزی زبان میں بھی نمبر اور حروف لکھنا ضروری ہے۔
منگلورو آر ٹی او مسٹر جی ایس ہیگڈے کے مطابق غلط طریقے کے نمبر پلیٹس استعمال کرنے کا جنون سا شروع ہوگیا ہے۔ اس پر قابو پانا ضروری ہے۔ مسٹر ہیگڈے کے مطابق نمبر پلیٹ صحیح معیار والے نہ ہونے پر جرمانہ کی حد بہت ہی کم ہے اس لئے عوام اس کی پرواہ نہیں کرتے ۔ اور اگر اس فیشن پر قابو پانا ہے تو پھرسرکار کو قانونی ترمیم کرتے ہوئے جرمانے کی حد بڑھانی ہوگی۔